شام میں امن عمل کے لیے آستانہ میں فریقین کے درمیان مذکرات کا آغاز

دمشق( وائس آف ایشیا)شام میں قیام امن کی خاطر نیا مذاکراتی عمل آستانہ میں شروع ہوگیا اس سے قبل شامی اپوزیشن کا وفد دمشق حکومت کے نمائندوں سے براہ راست مذاکرات کے لیے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچ گیاہے میڈیارپورٹس کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایاکہ شامی اپوزیشن کی طرف سے اعلیٰ مذاکرت کار محمد علوش آستانہ پہنچ گئے ۔ آستانہ کے ہوائی اڈے پرعلوش کے ہمراہ ان کے ساتھی بھی تھے، جوشروع ہونے والے اس مذاکراتی عمل میں دمشق حکومت کے نمائندوں سے براہ راست مذاکرات میں شروع ہوگئے ۔روس اور ترکی کی ثالثی کے نتیجے میں منعقد ہونے والے ان مذاکرات میں شامی اپوزیشن کا اتحاد ملک میں قیام امن کی خاطر صدر بشار الاسد کے وفد کے ساتھ متعدد پہلوؤں پر گفتگو کرے گا۔ شامی اپوزیشن کے وفد میں پہلی مرتبہ ادلب آرمی، جنوبی محاذ اور صقرالشام جیسے کئی اہم باغی گروہوں کے نمائندے بھی شامل ہیں۔شامی باغیوں سے رابطے میں ایک سفارتکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ شامی اپوزیشن کے وفد میں آٹھ باغی رہنما شامل تھے، جس میں اب اضافہ کر کے اس کی تعداد چودہ کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ اس مذاکراتی ٹیم میں اکیس قانونی اور سیاسی مشیر بھی شامل ہیں۔دوسری طرف دمشق حکومت کا وفد دس ارکان پر مشتمل ہے، جس کی سربراہی بشار الجعفری کر رہے ہیں، جو اقوام متحدہ میں شام کے سفیر کے طور پر بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس مذاکراتی عمل کے دوران باغیوں کا اصرار ہے شام میں گزشتہ ماہ طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد ممکن بنایا جائے۔آستانہ مذاکرات کو منعقد کرانے میں شامی صدر بشار الاسد کا حامی ملک ایران بھی تعاون کر رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ مذاکراتی عمل اس نئی پارٹنر شپ کے لیے ایک امتحان ثابت ہو گا۔ اقوام متحدہ کے مندوب برائے شام اسٹیفان ڈے مستورا بھی ان مذاکرات میں شریک ہیں۔ روسی میڈیا کے مطابق ڈے مستورا نے اس نئے امن عمل کو شام کی خانہ جنگی کے خاتمے کی کوشش کے لیے ایک ’اچھا آغاز‘ قرار دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *